ایرانی سرحد کے قریب امریکا کی فوجی سرگرمیوں میں تیزی، بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز اور طیارے روانہ
امریکا نے ایران کی جانب بڑی تعداد میں فوجی دستے روانہ کردیے ہیں جن میں جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئرفورس ون طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں فوجی نقل و حمل شروع کردی ہے۔ متعدد جہاز ایران کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس اقدام کو فوری فوجی کارروائی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ایرانی سرحد کے قریب فوج احتیاطی تدابیر کے طور پر تعینات کی جارہی ہے۔
صرٹرمپ نے کہا کہ ایران کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے اور آئندہ صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سخت وارننگ کے بعد ایران نے سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ پھانسیوں کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
ایران سے مذاکرات کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ اگر تہران بات چیت کیلئے تیار ہے تو واشنگٹن کو کوئی مسئلہ نہیں۔
انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو امریکا دوبارہ حملہ کرے گا۔ جو کہ بھرپور اور طاقتور ہوگا۔
روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئےصدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ زیلنسکی اور پیوٹن بات چیت کیلئے آمادہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اپریل میں چین کا دورہ کروں گا جبکہ سال کے آخر میں چینی صدر کا دورہ امریکا بھی متوقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئرفورس ون طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں فوجی نقل و حمل شروع کردی ہے۔ متعدد جہاز ایران کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس اقدام کو فوری فوجی کارروائی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ایرانی سرحد کے قریب فوج احتیاطی تدابیر کے طور پر تعینات کی جارہی ہے۔
صرٹرمپ نے کہا کہ ایران کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے اور آئندہ صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سخت وارننگ کے بعد ایران نے سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ پھانسیوں کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
ایران سے مذاکرات کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ اگر تہران بات چیت کیلئے تیار ہے تو واشنگٹن کو کوئی مسئلہ نہیں۔
انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو امریکا دوبارہ حملہ کرے گا۔ جو کہ بھرپور اور طاقتور ہوگا۔
روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئےصدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ زیلنسکی اور پیوٹن بات چیت کیلئے آمادہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اپریل میں چین کا دورہ کروں گا جبکہ سال کے آخر میں چینی صدر کا دورہ امریکا بھی متوقع ہے۔
اپنی رائے دیں:
تازہ ترین تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں۔ پہلا تبصرہ کریں!